0

پوتن معاشی چیلنجز کے باوجود انتخابات میں مقابلے کے لیے تیار

ماسکو: روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ وہ 2024ء میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں بھی حصہ لیں گے، کامیابی کی صورت میں یہ ان کا لگاتار تیسرا اور مجموعی طور چھٹا دورِ صدارت ہوگا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اگلی مدت کے لیے بھی صدارتی الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا جو پہلے ہی آئینی اصلاحات کے باعث 2012 سے مسلسل دو بار (چھ چھ سال کی مدت کے لیے) 2024 میں مکمل ہو رہی ہے۔
پوٹن سب سے پہلے 2000 سے 2008 تک روس کے صدر رہے لیکن آئین کی رو سے کوئی شخص مسلسل دوسری بار صدر نہیں بن سکتا البتہ اگر ایک مدت سے دوسری مدت گیپ آجائے تو بنایا جاسکتا ہے۔
اگر صدر پوٹن دوبارہ صدر بن جاتے ہیں تو وہ کم سے کم 2030 اور زیادہ سے زیادہ 2036 تک صدر رہ سکتے ہیں۔
مزدوروں کی قلت، مہنگائی اور بلند شرح سود کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کے باوجود، صدر ولادیمیر پوٹن دوبارہ انتخاب میں حصہ لینے کے لیے تیار ہیں.مغربی تیل کی قیمتوں کی حد سے بچنے میں روس کی کامیابی سے اقتصادی ترقی میں بحالی میں مدد مل رہی ہے۔
روس کی پارلیمنٹ نے باضابطہ طور پر اگلے سال کے صدارتی انتخابات کی تاریخ 17 مارچ مقرر کر دی ہے۔
پوتن، کے مطابق اس سال معیشت کی شرح نمو 3.5 فیصد ہو گی.انھوں نے مزید کہا کہ وہ ایسے اقدامات کرنا جاری رکھیں گے جس سے وہ اگلے انتخابات جیت سکیں اور خود کو کم از کم 2030 تک پاور میں رکھ سکیں.
2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد ًمخالفین نے پوتن کو روس کو سزا دینے اور باقی دنیا سے الگ تھلگ کرنےکا الزام لگایا اور مغربی ممالک سے بھی پابندیاں لگای گئی۔اسکے باوجود روس کی برآمدات پر مرکوز، 2.2 ٹریلین ڈالر کی معیشت نے پابندیوں کی لہر کو بہتر طور برداشت کر لیا.
اہم بات یہ ہے کہ مغرب روس کی تیل کی آمدنی کو مؤثر طریقے سے روکنے میں ناکام رہا ہے۔ روس نے برآمدات کو چین اور بھارت جیسی منزلوں پر بھیج دیا ہے اور مغرب کی تیل کی قیمت کی حد کو روکنے کے لیے بحری جہازوں کے نام نہاد شیڈو فلیٹ کی غیر واضح ملکیت کا استعمال کیا ہے۔
نومبر میں، توانائی کی آمدنی نے روس کے بجٹ میں 961.7 بلین روبل ($10.41 بلین) کا حصہ ڈالا، جو کہ جنوری میں صرف 425.5 بلین تھا۔
ملک میں ہونے والے انتخابات کے لحاظ سے معاشی مسائل، جیسے کمزور روبل، بلند افراط زر اور شرح سود(جس سے لوگوں کی قوت خرید کم ہو رہی ہے)جیسے حساس موضوع زیر بحث ہیں. مگر پوتن پُر امید ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں