0

ڈبلیو ایچ او کی غزہ میں انسانی امداد کی فوری ترسیل کا مطالبہ

چیف Tedros Adhanom Ghebreyesus کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ یہ قرارداد بحران پر اقوام متحدہ کی مزید کارروائی کا نقطہ آغاز ثابت ہوگی۔
عالمی ادارہ صحت نے ایک قرارداد پر اتفاق کیا ہے، جو اقوام متحدہ کی کسی بھی ایجنسی کی پہلی قرارداد ہے، جس میں اہم انسانی امداد فوری پہنچانے اور غزہ میں لڑائی کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس نے “تمام فریقین سے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا مطالبہ کیا،اور اس بات کی تصدیق کی کہ “جنگ کے تمام فریقوں کو مسلح تصادم اور طبی عملے اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ان پر لاگو ذمہ داریوں کی مکمل تعمیل کرنی چاہیے۔ ”
جس اجلاس میں یہ مطالبہ پیش کیا گیا وہ ڈبلیو ایچ او کی 75 سالہ تاریخ میں ایگزیکٹو بورڈ کاصرف ساتواں اجلاس تھا۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ تقریباً 80 فیصد آبادی بے گھر ہو چکی ہے اور انہیں خوراک، پانی اور ادویات کی قلت کے ساتھ ساتھ بیماریوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے کہا کہ اقوام متحدہ کی صحت ایجنسی کی قرارداد مزید کارروائی کا نقطہ آغاز ہو سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سے بحران حل نہیں ہوتا۔ لیکن یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہا ں سے امن قائم کرنے کا آگاز ہو سکتا ہے . انھوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے بغیر امن نہیں ہو سکتا۔ اور امن کے بغیر صحت نہیں ہوتی۔ میں تمام رکن ممالک پر زور دیتا ہوں، خاص طور پر جو سب سے زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں، اس تنازعہ کو جلد از جلد ختم کرنے کے لیے فوری طور پر کام کریں۔
توقع کی جا رہی ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) میں منگل کو فوری جنگ بندی کی قرارداد پر ووٹنگ ہو گی، کیونکہ مصر اور موریطانیہ نے امریکی ویٹو کے تناظر میں “امن کے لیے متحد” قرار داد 377 کی درخواست کی تھی۔
قرارداد 377 کے مطابق جہاں UNSC “بین الاقوامی امن اور سلامتی کی بحالی کے لیے اپنی بنیادی ذمہ داری کو ادا کرنے میں ناکام رہے وہاں اپنے 193 ممبز کی کمیٹی کو کام کرنے کی اجازت دیتا ہے “.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں