0

اقوام متحدہ کے فنڈ ختم، جنگ زدہ سوڈان مزید تباہی کے دہانے پر

جنگ زدہ سوڈان میں اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے سربراہ کے مطابق، ضرورت مند تقریباً 25 ملین افراد میں سے، اقوام متحدہ صرف ایک حصے تک مدد پہنچانے میں کامیاب رہی ہے۔ اور اگر فنڈز کی صورتحال اسی طرح کمی کا شکار رہی تو جن لوگوں کی مدد کی جارہی ہے وہ بھی روکنی پڑ سکتی ہے.
سوڈان کے لیے اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے رابطہ کار کا کہنا ہے کہ حریف جرنیلوں کے درمیان تصادم میں آٹھ ماہ گزر چکے ہیں جس نے ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے، صورت حال “تباہ کن” ہے۔
امدادی کارکنوں نے اسے ’’بھولی ہوئی جنگ‘‘ قرار دیا ہے۔جو شروع تو ہو چکی لیکن اسکو روکنا سب بھول گئے ہیں.اور اسکا اختتام نظر نہیں آرہا.
15 اپریل کو آرمی چیف عبدالفتاح البرہان اور ان کے سابق نائب محمد حمدان ڈگلو، جو نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کی کمانڈ کرتے ہیں، نے ایک دوسرے پر ہتھیار تان لیے تھے۔
آرمڈ کنفلیکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا پروجیکٹ (ACLED) کے مطابق،سابق اتحادیوں کی جانب سے 2021 کی بغاوت کے دو سال بعد جب شہریوں کو اقتدار سے الگ کیا گیا تب سے اب تک ان کی فورسز نے اقتدار کے لیے اپنی وحشیانہ جدوجہد میں 12,190 سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا ہے۔اور اعداد و شمار بھی پرانے تخمینے کے مطابق ہیں.نئے اعداوشمار موجود نہیں کیونکہ جنگ کے باعث سوڈان باقی تمام دنیا سے کٹ کے رہ گیا ہے.
سوڈان میں بھی “سات ملین لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، جو کہ عالمی سطح پر بے گھر ہونے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے،”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں