0

برطانیہ کے بعد فرانس نے بھی امیگریشن قوانین میں سختی کر دی

یورپی مما لک میں امیگریشن کے قوانین پر کچھ عرصے سے جاری بحث کا اثر اب نظر آنے لگا ہے.اسی سلسلے میں برطانیہ کے بعد فرانس میں بھی امیگریشن سخت کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر کوششیں شروع ہوگئیں ہیں . ملک کے دائیں اور بائیں بازو کے ساتھ انتہائی ماڈرن لبرل طبقات کے دباؤ پر انکے سیاسی نمائندوں نے بھی پارلیمنٹ میں اپنے ہم خیال گروپ کے ساتھ انتہا پسند دائیں گروپ سے اتحاد کرکے امیگریش پالیسی بنانے پر اتفاق کرلیا ہے ، جبکہ یورپ کے دیگر ممالک میں بھی امیگریشن پالیسی کو سخت کرنے کے لیے عوامی دباؤ بڑھتا جارہا ہے .
برطانیہ اور فرانس سمیت دیگر ہورپی ممالک میں آنے والے زیادہ تر تارکین کا تعلق بھارت، نائجیریا اور چین سمیت زیادہ تر ایشیائی ممالک سے ہے۔برطانوی وزیراعظم رشی سونک نےبھی حال ہی میں کہا کہ ہم اس معاملے سے نمٹنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ ایکس پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ امیگریشن بہت بڑھ گئی ہے جسے کم کرنے کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔
ان ممالک کے لیے قانونی امیگریشن ایک اہم ذریعہ معاش بھی ہے اس لیے اسکو مکمل ختم کرنے کے بجائے اس پر قوانین سخت کر کے ہی گزارہ کیا جا رہا ہے.ان مما لک کو افرادی قوت کے ساتھ ساتھ ویزہ اور امیگریشن فیس کا فائدہ تو چاہیے مگر اب اپنے ممالک میں غیر وں کی مستقل موجودگی سے ڈر لگنے لگا ہے.
یورپ اور برطانیہ کے دانشوروں کا خیال ہے یورپ اور برطانیہ میں تیسری دنیا خصوصا مسلم آبادی کی تعداد نے مغربی دنیا کے تہذیبی مذہبی ٹکراؤ نے امیگریشن پالیسی تبدیل کرنے اور اسے سخت بنانے پر مجبور کردیا ہے . یہ دانشور کہتے ہیں ،اسرائیل حماس تنازعے کے پس منظر میں یورپ اور برطانیہ کی مسلمان آبادی جنکی پارلیمنٹ میں بھی نمائندگی موجود ہے حکومتی پالیسوں کے ساتھ ریاستی نظریات پر بھی بڑا حملہ کیا ہے اور یہ آبادی ترک وطن کرنے کے اسباب کو نظر انداز کرکے اپنے نئے ٹھکانوں کو اپنے معاشرتی و مذہبی رنگ میں رنگنے کی خواہش ہی نہیں رکھتے بلکہ اسکے لیے محنت و کوشش بھی کررہے ہیں جس کے باعث مقامی آبادی سے ایک بڑے ٹکراؤ کا خدشہ تیزی سے بڑھ رہا ہے.
دیار غیر میں مستقل پناہ لینے والے افراد اب اپنی بڑی تعداد کے پیش نظر سر عام اپنے مطالبات رکھنے میں گھبراتے نہیں.کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ آزادی راے کے تحت وہ کسی بھی مسئلے کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں جب کہ یہ آزادی انکو اپنے ممالک میں حاصل نہیں ہوتی.ان ممالک میں رہنے والوں کے مطابق دوسرے ممالک کے مسائل کے لیے بھی انکی سرزمین کسی بھی وقت استعمال ہوسکتی ہے.اپنی کمیونٹی کے لوگوں سے گٹھ جوڑ کر کے سازش کرنا آسان کام ہو سکتا ہے.جیسا کہ حال ہی میں سکھ رہنماوں کے قتل کی انٹر نیشنل سازش نے ثابت بھی کر دیا.
امیگریشن قوانین میں سختی کے حق میں آواز کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے حلقے بھی ہیں جو ایسا نہیں چاہتے.اور کھل کر اپنا بیانیہ سامنے رکھ رہے ہیں. ان اقدام کو کاروباری اداروں اور ٹریڈ یونینز نے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نجی شعبے اور سرکاری ہیلتھ سروس کے لیے چیلنجز بڑھ جائیں گے کیونکہ یہ شعبے افرادی قوت کی کمی کا شکار ہیں۔
خیال رہے کے ان اقدامات سے کاروباری مالکان کے ساتھ نئے تنازعات پیدا ہونے کے امکان بڑھنے لگے ہیں، جو پہلے سے ہی افرادی قوت کی کمی سے مشکلات سے دوچار ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں