0

کیا اہرام مصر کی کہانی ادھوری ہے؟؟؟

ہماری تاریخ میں کچھ تو گڑبڑ ہے کیوں کہ “اہرام” مصر سے متعلق میں نے اب تک جتنے بھی “ارٹیکلز” پڑھے ہیں،،،، کسی ایک نے بھی مجھے مطمئن نہیں کیا۔۔۔۔ کیونکہ ہم جدید دور میں بھی مصر میں تعمير کٸے گٸے “اہرام” نہیں بناسکتے،، تو اس دور میں یہ کیسے ممکن ہوا۔۔؟ اس پر ہالی ووڈ نے کافی مویوز بھی بناٸی ہیں۔۔۔۔۔۔ لیکن سب افسانے ہی لگ رہے ہیں۔ کیونکہ حقیقت کسی کو بھی معلوم نہیں ہے۔ ہم جانتے ہیں۔ کہ مصر میں موجود اہرام قبریں نہیں ہیں،، کیونکہ اہرام کے اندر کبھی کوئی ممی نہیں ملی، اب تک ” ریسرچ” کے مطابق تمام ممیاں کنگز وادی میں پائی گئیں ہیں۔

‏حیرانی کی بات دراصل یہ ہے، کہ وہ لوگ کس طرح گرینائٹ کے بیس ٹن بلاکس کو انتہائی درستگی کے ساتھ کاٹتے تھے۔ اور، انہیں لکڑی کے ریمپس کے ساتھ بادشاہ کے حجرے میں ایک دوسرے کے اوپر رکھتے جاتے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔کیا اس دور میں انسان اس قابل تھا۔۔۔۔۔۔۔ ؟ اور یہ کام کسی انتہائی ایڈوانس ٹیکنالوجی کے بغیر ممکن ہے ؟ مجھے تو نہیں لگتا،،، مان لیں کہ لکڑی کے ریمپس استعمال کیے گئے تھے بڑے بڑے پتھروں کے تین ملین بلاکس کو منتقل کرنے کے لیے لکڑی فراہم کرنے کے لیے آپکو پورا جنگل کاٹنا ہوگا، تو اس لکڑی کا ثبوت کہاں ہے ؟

‏مصر سے ہمیں اب تک جتنی بھی چیزیں ملی ہیں۔۔۔۔ ان میں کسی ایک میں بھی یہ نہیں لکھا گیا کہ قدیم “مصریوں” نے اہرام بنائے تھے تو اہرام بناٸے کس نے؟ انہیں تقریبا تین ملین پتھروں کی کھدائی،کاٹنے اور اٹھانے کے لیے کتنے تقریبا غلام یا مزدوروں کی ضرورت ہوئی ہوگی؟یعنی تین ملین پتھروں کو اٹھانے کےلیے یقینا اس سے زیادہ غلام درکار ہوں گے لیکن اس زمانے میں اتنی آبادی کہاں تھی؟؟ چلو مان لیتے ہیں کہ یہ کام مزدوروں نے ہی کیا ہےلیکن ٹیکنالوجی کے بغیر پورے اہرام کو صحیح “شمال” کی سمت میں کیسے رکھا گیا؟ جب کہ 4000 سال پہلے تعمیر کرنے والوں کو “Wheel” کے بارے میں شاید معلوم بھی نہیں تھا ؟ تو Wheel کے بغیر یہ سب کیسے ممکن ہوا ۔۔۔؟ جس درستگی پر پتھر رکھے گئے ہیں وہ بے مثال ہے اور تمام جدید “ٹیکنالوجی” کے ساتھ عصر حاضر کے معماروں نے اب تک ایسا کوئی کارنامہ کیوں انجام نہیں دیا۔ تو اس وقت یہ کیسے ممکن تھا ؟
‏دنیا بھر کے تمام میگلتھ ڈھانچے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ وہ ایک جیسی تکنیک کے ساتھ ایک ہی جیومیٹری کیوں بنا رہے تھے؟ اسکے علاوہ پانی کے اندر پائے گئے جاپان کے اہرام کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ انسانی تاریخ کا کچھ حصہ ہماری “نظروں” سے ابھی اوجھل ہے جب کہ بہت کم حصہ مؤرخین محفوظ کر پاٸے ہیں شاید میں غلط ہوں،،،، لیکن مجھے تو یہی لگ رہا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں