0

اقوام متحدہ کا ہنگامی اجلاس، غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرار داد بھاری اکثریت سے منظور کرلی گئی ہے۔
قرار داد کے حق میں 153 ممالک نے ووٹ دیا، امریکا اور اسرائیل سمیت 10 ممالک نے مخالفت کی جبکہ 23 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
امریکی مندوب لنڈا تھامس نے قرارداد میں حماس کی مذمت شامل کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا یکطرفہ قرار داد کی حمایت نہیں کرسکتے۔
پاکستانی مندوب منیر اکرم نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا پاکستان غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرارداد کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے کچھ دوستوں نے قرار داد میں یکطرفہ ترمیم کی تجویز دی ہے، الزام صرف حماس کو دینا اور اسرائیل کو بری الذمہ قرار دینا قابل مذمت ہے۔
منیر اکرم نے کہا کہ جنگ کا اصل ذمہ دار اسرائیل ہے، اسرائیل نے غزہ پر پچیس ہزار ٹن بارودی مواد گرایا ہے۔
مزید کہا کہ غزہ پر گرایا بارودی مواد ہیروشیما اور ناگا ساکی پر گرائے گئے جوہری بم کے برابر ہے۔ اسرائیل کا مقصد فلسطینیوں کی نسل کشی کرنا ہے۔
غزہ پر اسرائیلی کی بمباری جاری ہے، اسرائیل فوج نے شمالی غزہ کے علاقے بیت حنون میں اقوام متحدہ کے ایک اور اسکول کو دھماکے سے اڑا دیا، اسکول میں پناہ گزین مقیم تھے۔

رفح، جبالیہ اور خان یونس پر بھی بمباری جاری ہے، خواتین اور بچوں سمیت بڑی تعداد میں شہادتیں ہوئیں اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ شمالی مغربی کنارے کے شہر جنین میں اسرائیل کے ڈرون حملے میں 6 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔

سات اکتوبر سے اب تک شہدا کی مجموعی تعداد 18 ہزار 412 ہوگئی، اسرائیلی فورسز نے مغربی کنارے کے علاقوں میں چھاپے مار کر پندرہ فلسطینیوں کو گرفتار کرلیا ہے۔ مغربی کنارے سے اب تک 3 ہزار810 فلسطینیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں