0

بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کرنیوالا گروہ بھگت سنگھ سے متاثر نکلا

بھارتی پولیس کے عہدیداروں نے گزشتہ روز پارلیمنٹ میں دھواں چھوڑنے کو کم از کم 18 ماہ کی منصوبہ بندی اور ملزمین کے درمیان متعدد ملاقاتوں کا نتیجہ قراردیا ہے۔ ملزمان بھگت سنگھ کے پیروکار نکلے۔

گزشتہ روز سال 2001 میں پارلیمنٹ حملے کی برسی کے موقع پر ساگر شرما اور منورنجن ڈی نامی 2 اشخاص دوپہر ایک بجے کے قریب وزیٹر گیلری سے لوک سبھا کے چیمبر میں کودگئے تھے۔ دونوں نے پیلے دھوئیں سے بھرے کنستر لگائے اور شرما نے اسپیکر کی کرسی کی طرف چھلانگ لگائی، تاہم فوراً بعد ارکان پارلیمنٹ نے ان پر قابو پاتے ہوئے انہیں دھرلیا تھا۔

اس کے علاوہ پارلیمنٹ کی حدود سے مزید دو افراد کو حراست میں لیا گیا تھا،امول نامی شخص کا تعلق مہاراشٹر اور نیلم نامی خاتون کا تعلق بھارتی ریاست ہریانہ سے بتایا گیا۔ پولیس کے مطابق چاروں کا تعلق مختلف ریاستوں سے ہے لیکن ایک تعلق مشترک ہے اوروہ ہے، ’بھگت سنگھ فین کلب‘ نامی ایک سوشل میڈیا پیج۔

نیلم آزاد اورامول نے پارلیمنٹ کے پیلے اور سرخ دھوئیں والے کنستروں کا استعمال کرتے ہوئے آمریت کیخلاف نعرے لگائے تھے جبکہ پارلیمنٹ کے اندر ہنگامنہ برپا کرنے والے ساگرشرما لکھنؤ اور منورنجن میسور کے رہنے والے ہیں۔

دیگر دو ملزمین للت جھا اور وکی شرما ہیں۔ للت نے مبینہ طور پر نیلم اور شندے کی پارلیمنٹ کے باہر کنستروں کا استعمال کرتے ہوئے ویڈیو بنائی اور پھر اپنے سیل فون کے ساتھ فرار ہوگئے جبکہ وکی شرم کے گھر میں دوسرے ملزم حملے سے پہلے رہتے تھے۔ للت جھا کا تعلق بہار اور وکی کا گرگرام سے ہے۔

دہلی پولیس کی اب تک کی تفتیش کے مطابق ملزمین کی پہلی ملاقات تقریبا 18 مہینے پہلے میسورو میں ہوئی تھی۔ اس میٹنگ میں انہوں نے وہ مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف طریقوں کے بارے میں بات کی جن کے بارے میں ان کا ماننا تھا کہ پارلیمنٹ کو بحث کرنی چاہئے۔ ان مسائل میں بے روزگاری ، افراط زر اور منی پور میں تشدد شامل ہیں۔

پولیس حکام نے بتایا کہ نو ماہ قبل رواں سال مارچ میں ایک اور میٹنگ میں تفصیلی منصوبہ تیارکرنا شروع کیاگیا۔ یہ میٹنگ چندی گڑھ ہوائی اڈے کے قریب کسانوں کے احتجاج کے دوران ہوئی، جس میں کم از کم امدادی قیمت کے لیے قانونی ضمانت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

کچھ وقت بعد منورنجن دہلی چلا گیا اوربجٹ اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کمپلیکس کا جائزہ لیا۔ ایسا کرتے ہوئے اس نے نوٹ کیا کہ اندر جانے والے وزیٹرزکی متعدد بارتلاشی لی گئی لیکن جوتوں کی جانچ نہیں کی گئی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اسی لیے منورنجن اور ساگر شرما کو بدھ کے روز خلاف ورزی کے دوران اپنے جوتوں کے اندر کنستر چھپانے کا خیال آیا ہوگا۔

جولائی میں شرما پارلیمنٹ کمپلیکس کی ریکی کرنے کے لیے لکھنؤ سے راجدھانی بھی گیا تھا۔۔

یہ ستمبر میں نئی پارلیمنٹ کی عمارت میں پہلے اجلاس کے انعقاد سے پہلے کی بات ہے، شرما کو اندر رسائی نہیں مل سکی تھی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اس نے باہر سے عمارت کی ریکی کی، تمام حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیکرباقی گروپ کو رپورٹ کیا۔

پارلیمنٹ حملے کی برسی کے موقع پر شرما، منورنجن، نیلم اور شندے اتوار 10 دسمبر کو دہلی پہنچے اور گروگرام میں وکی شرما کے گھر چلے گئے۔

اس واقعہ کی صبح ملزمین نے پارلیمنٹ کے قریب مہادیو روڈ پر واقع بی جے پی رکن پارلیمنٹ پرتاپ سمہا کے دفتر سے وزیٹرز پاس حاصل کیے۔ ابتدائی منصوبہ بندی میں تمام 6 افراد کا پارلیمنٹ کے اندرجانا شامل تھا، لیکن وہ صرف شرما اور منورنجن کے لیے پاسز حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

اس کے بعد وہ انڈیا گیٹ پر جمع ہوئے اور یہی وہ جگہ تھی جہاں شندے نے باقی ملزمین کو کنستر تقسیم کیے جو وہ آبائی شہر سے خریدکر لایا تھا۔ انڈیا گیٹ میٹنگ تقریبا آدھے گھنٹے تک جاری رہی۔

اب جیسا کہ ان کے ہیرو بھگت سنگھ نے 1929 میں کیا تھا، ملزمین نے اسموک بم نصب کرنے کے بعد پارلیمنٹ میں پمفلٹ پھینکنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ انہوں نے دہلی چھاؤنی سے بھارتی پرچم بھی خریدے تھے۔

گرفتاریاں اور سیکیورٹی خدشات
ارکان پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایسے وقت میں کی گئی جب پارلیمنٹ کے اندر سیکیورٹی پہلے سے ہی سخت تھی، کیونکہ یہ 2001 کے حملے کی برسی تھی۔ سکیورٹی ایجنسیاں بھی چوکس رہتیں کیونکہ خالصتان دہشت گرد گرپتونت سنگھ پنوں نے 13 دسمبر کو یا اس سے پہلے پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔

جن چار لوگوں کو گرفتار کیا گیا ان پر سخت انسداد دہشت گردی قانون غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کے ساتھ ساتھ مجرمانہ سازش اور دشمنی کو فروغ دینے سے متعلق دفعات کے تحت آئی پی سی کی دفعات کے تحت الزام عائد کیا گیا ہے۔ چاروں سے تفتیش جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں