0

اسرائیلی فوج نے غزہ میں چرچ کے اندر دو عیسائی خواتین کو قتل کر دیا۔

غزہ کے ہولی فیملی چرچ میں ایک عیسائی خاتون اور اس کی بیٹی کو اسرائیلی فوجی نے گولی مار دی۔
یروشلم کے لاطینی سرپرست نے کہا ہے کہ دو عیسائی خواتین – ایک بزرگ ماں اور اس کی بیٹی – کو ایک اسرائیلی فوجی نے غزہ شہر میں ایک کیتھولک چرچ میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔یہاں اسرائیل حماس جنگ شروع ہونے کے بعد سے عیسائی خاندان پناہ گزین ہیں.
عینی شاہدوں کے مطابق فائرنگ شروع کرنے سے پہلے کوئی انتباہ نہیں دیا گیا تھا اور انہیں چرچ کے احاطے کے اندر گولی ماری گئی تھی، جہاں کوئی جنگجو نہیں تھا۔” جبکہ 7 افراد زخمی بھی ہوے جو اس فائرنگ سے خود کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے.
مرنے والی خواتین کے گھر والوں نے کہا کہ یہ کرسمس کے سیزن کے دوران دنیا کی قدیم ترین مسیحی برادری پر ٹارگٹڈ موت کی مہم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں