0

بھارت: تاریخی مسجد کو مندر قرار دینے کیلئے سائنسی سروے روکنے کی مسلمانوں کی درخواست مسترد

ہندودرخواست گزاروں کا دعویٰ ہے کہ گیان واپی مسجد مندر توڑکر بنائی گئی تھی
بھارت کی الہٰ آباد ہائی کورٹ نے بنارس کی گیان واپی مسجد سے متعلق مسلم فریقین کی درخواست مسترد کردی۔

مسلم فریقین نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ 1991 کے عبادتگاہوں کے تحفظ سے متعلق قانون کے تحت گیان واپی مسجد کے سروے کا ذیلی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے 3 اگست 2023 کو گیان واپی مسجد کے سائنسی سروے کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے اے ایس آئی کو سروے کرنے کی اجازت دی تھی، جس کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ آیا 17 ویں صدی کی مسجد کسی ہندو مندر کے پہلے سے موجود ڈھانچے پر تعمیر کی گئی تھی یا نہیں۔

گیان واپی مسجد کے سائنسی بنیادوں پرسروے کا فیصلہ ہندو درخواست گزاروں کی استدعا پر بنارس کی ضلعی عدالت نے سُنایاتھا جس کے بعد مسجد انتظامیہ نے یہ فیصلہ الہٰ آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
ندودرخواست گزاروں کا دعویٰ ہے کہ گیان واپی مسجد مندر توڑکر بنائی گئی تھی اور یہ اس سے متصل ہندوؤں کے دیوتا بھگوان شیو کے مندرکا حصہ تھی۔ انہوں نے مسجد کو مندر کی شکل میں بحال کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

ہندو فریق سے تعلق رکھنے والے سوہن لال آریہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ سروے کے دوران احاطے کے اندر شیو اور پاروتی کے مجسمے ، ورہا (وشنو کا سور اوتار) کا مجسمہ ، گھنٹیاں ، تریشور اور بہت سے دیگر ثبوت ملے تھے جن سے پتہ چلتا ہے کہ یہ جگہ مندر ہے۔

بی جے پی رہنماؤں نے ہائیکورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس مقام پر مندر کے بارے میں ”سچائی“ اب سامنے آئے گی۔

آرکیالوجیکل سروے کے ماہرین مسجد کے در و دیوار ، بنیادوں اور تعمیرات کا جائزہ لے کر یہ بتائیں گے کہ صدیوں پرانی یہ مسجد آیا ہندو مندر توڑ کر بنائی گئی تھی یا کچھ حصے کی تعمیر نو کر کے اسے مسجد میں تبدیل کیا گیا تھا یا پھر یہ ابتدا سے ہی ایک مسجد تھی۔

تنازع کیا ہے
گیان واپی مسجد کی انتظامیہ کمیٹی اور اترپردیش کے سنی وقف بورڈ نےالہٰ آبادہائیکورٹ میں بنارس کی ضلعی عدالت کا فیصلہ چیلنج کیا تھا۔

درخواست گزاروں کا موقف تھا کہ1991 کے حفظ ایکٹ کے تحت کسی عبادت گاہ کو تبدیل نہیں کیاجا سکتا، اس لیے مسجد کے سروے کا فیصلہ مسترد کیا جائے۔ تاہم عدالت نے مسلم فری‍قیں کی دلیل مسترد کرتے ہوئے کہان کہ 1991 کا قانون کسی عبادت گاہ کی ’مذہبی نوعیت‘ کی تشریح نہیں کررہا، اس میں صرف عبادت گاہ کی تبدیلی اور مقام کی تشریح کی گئی ہے۔

مسلمانوں کی دیگر عمارتوں سے متعلق دعوے
سال 1991 میں اس وقت کےبھارتی وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے ایودھیا جیسے مذہبی تنازعات روکنے کیلئے ’عبادت گاہ تحفظ‘ ایکٹ کی منظوری دی تھی۔ جس کے تحت بھارت میں میں جو عبادت گاہ جس شکل میں موجود تھی اسی میں حتمی طور پر تسلیم کی گئی جسے چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔

تاہم اس وقت بابری مسجد کو اس ایکٹ سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا کیونکہ کیس کئی سال سے زیرسماعت ہونے کے باعث فیصلہ عدالت پر چھوڑا گیا تھا۔بعد ازاں بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بابری مسجد کوشہید کردیا گیا تھا ۔

حالیہ برسوں میں بھارتی کی مقامی عدالتوں میں بنارس اور متھرا کی مساجد سے متعلق ہندو فریقین کے دعوؤں کی درخواستیں سماعت کیلئے قبول ہونا اس ایکٹ پر سوالیہ نشان لگاتا ہے کیونکہ توقع کی جا رہی تھی کہ عبادت گاہ تحفظ ایکٹ کے بعد بابری مسجد جیسا دوسرا تنازع پیدا نہیں ہو گا۔

گیان واپی مسجد جیسی نوعیت کے مقدمے عیدگاہ مسجد کے سلسلے میں متھرا کی مقامی عدالت میں بھی زیر سماعت ہیں۔ ہندو فریقین نے قطب مینار کے بارے میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے ، وہ اس مینار کو ’وشنو دھوج‘ کہتے ہیں اور ان کا ماننا ہے مینار کے اطراف میں وشنو اورجین مندروں کے ستون اور آثار واضح طور پر موجود ہیں، اس لیے یہ انہیں دیا جائے۔

آگرہ کی پہچان تاج محل کے حوالے سے بھی ایسی درخواستیں جمع کروائی گئی تھیں۔ ہندوتاج محل کو ’تاجو مہالے‘ مندر مانتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کی مورتیاں توڑکر ہٹا دی گئیں اور ان کی جگہ عمارت تعمیر کی گئی، تاہم مقامی عدالت نے درخواست مسترد کردی تھی۔

لیکن اب گیان واپی مسجد کے سائسنسی جائزے کے فیصلے کے بعد ایسے دعوؤں کے لیے راستہ ہموار ہو گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں