0

کویت کے نئے امیر کی افتتاحی خطاب میں پارلیمنٹ اور کابینہ پر کڑی تنقید

شیخ مشعل نے اپنے بھائی شیخ نواف کے انتقال کے باعث باضابطہ طور پر عہدہ سنبھالا
کویت کے نئے امیر شیخ مشعل الاحمد الصباح نے بدھ کے روز ملک کے 17ویں حکمران کی حیثیت سے باضابطہ حلف اٹھانے کے بعد قومی مفادات کو نقصان پہنچانے پر پارلیمنٹ اور کابینہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق شیخ مشعل نے ہفتے کو انتقال کرجانے والے اپنے سوتیلے بھائی شیخ نواف کی جگہ باضابطہ طور پر عہدہ سنبھالا۔
کویت کے نئے حکمران کو ملک کو سیاسی طور پر مفلوج نظام سے نکالنے اور فرسودہ پبلک سیکٹر کی اصلاح کا چیلنج درپیش ہے جس نے کویت کو خلیجی ریاستوں میں سب سے پسماندہ ملک میں تبدیل کر دیا ہے۔

83 سالہ حکمران نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد قانون سازوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی پچھلی تقاریر میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ہماری کچھ قومی ذمہ داریاں ہیں جنہیں پورا کیا جانا چاہیے لیکن پارلیمنٹ اور کابینہ کی جانب سے کسی قسم کی تبدیلی یا اصلاح نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بجائے اب دونوں اداروں نے عوام اور ملک کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔

شیخ مشعل نے ان تقرریوں اور ترقیوں کا بھی حوالہ دیا جو انصاف کے آسان ترین معیار پر پورا نہیں اترتیں۔

انہوں نے پروموشنز اور نئی تقرریوں کو عارضی طور پر روکنے کا عزم ظاہر کیا جہاں اس سے قبل 5 دسمبر کو بھی وہ ایک حکمنامے کے ذریعے ریاستی ملازمتوں میں بھارتی کے لیے تین ماہ کی پابندی عائد کر چکے ہیں۔

شیخ مشعل نے کہا کہ ہم نے بہت سے مواقع پر خبردار کیا ہے کہ بحران، چیلنجز اور خطرات ہمیں گھیرے ہوئے ہیں لہٰذا ہمیں تمام پہلوؤں سے موجودہ حقیقت پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں