0

غزہ جنگ پر اسرائیلی کابینہ میں پھوٹ، نیتن یاہو کا حملے روکنے سے انکار

فلسطینی تنظیموں نے مصر کی متنازع جنگ بندی تجویز مسترد کردی، بمباری سے 250 شہید
اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو کا کہنا ہے کہ ہم غزہ میں جنگ جاری رکھیں گے اور اسے مزید تیز کریں گے۔

اسرائیل کے وزیر اقتصادیات نیر برکت نے اسرائیلی فوج کے آپریشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ زمینی جنگ میں اسرائیلی فوجیوں کی جانوں کو خطرہ ہے، غزہ پر فضائی حملے کئے جائیں۔

تاہم دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے وزیراقتصادیات کے مشورے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان لوگوں سے مشورہ لے رہے ہیں جو اس قسم کی جنگ لڑنا جانتے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم غزہ جنگ خاتمے کے قریب نہیں ہے، ہم نہیں رک رہے بلکہ اسے جاری رکھیں گے، اور آنے والےدنوں میں لڑائی کو مزید تیز کریں گے۔

اسرائیلی کابینہ کے وزراء کے درمیان بحث اس قدر کشیدگی اختیار کرگئی کہ اسرائیلی صدر ہرزوگ کو مداخلت کرنا پڑی اور انہوں نے کہا کہ تمام افراد اس تنقید سے پرہیز کریں کہ اسرائیل کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔

صدر ہرزوگ کا کہنا تھا کہ آپس کی بحث سے دراصل حماس کو فائدہ ہورہا ہے، کابینہ کو معمولی سیاسی پوائنٹس حاصل کرنےکے بجائے حاصل کردہ اہداف کے ساتھ جنگ کو مکمل کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔

اسرائیلی بمباری سے 250 فلسطینی شہید
دوسری جانب غزہ کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 250 فلسطینی شہید اور 500 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 20 ہزار 674 سے زائد فلسطینی شہید اور 54 ہزار 536 زخمی ہو چکے ہیں۔ جب کہ اسرائیل پر حماس کے حملے میں ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں کی تعداد 1139 ہے۔

فلسطینی تنظیموں نے مصر کی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی
خبر رساں ادارے روئٹرز نے مصر کے سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حماس سمیت فلسطین کی تنظیموں نے مصر کی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ مستقل جنگ بندی کے بدلے غزہ کی پٹی کا کنٹرول چھوڑ دیں۔

رپورٹ کے مطابق حماس کے ایک عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ حماس فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی جارحیت، قتل عام اور نسل کشی کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ اسرائیلی جارحیت بند ہونے اور امداد میں اضافے کے بعد ہم قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت کرنے کے لئے تیار ہیں۔

ایک اور تنظیم کے عہدیدار نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کے تبادلے کی بنیاد ”برابری“ کے اصول پر ہونی چاہیے، غزہ میں قید تمام اسرائیلی قیدیوں کے بدلے اسرائیل کی جیلوں میں قید تمام فلسطینیوں کی رہائی لازمی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں