0

پہلی ہندو خاتون امیدوار: ’بونیر کے عوام نے سویرا پرکاش کیلئے مثبت ردعمل ظاہر کیا‘

خیبرپختونخوا میں جنرل نشست پر کاغذات جمع کرانے والی پہلی ہندو خاتون ڈاکٹر سویرا پرکاش کے والد کی آج سے گفتگو
بونیر میں جنرل نشست سے الیکشن لڑنے والی پہلی خاتون ڈاکٹر سویرا پرکاش کے والد اوم پرکاش کا کہنا ہے کہ بونیر کے عوام اقلیتوں اور خواتین کا بہت احترام کرتے ہیں اور وہ سویرا کو الیکشن میں کامیاب کریں گے۔

اوم پرکاش خود بھی پیپلز پارٹی کے پرانے رہنما ہیں۔ آج نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ڈاکٹر سویرا پرکاش کے الیکشن لڑنے کے حوالے سے بتایا۔

سال 2022 میں ایبٹ آباد انٹرنیشنل میڈیکل کالج سے گریجویٹ پرکاش بونیر میں پیپلز پارٹی کے شعبہ خواتین میں جنرل سیکریٹری کے عہدے پر فائز ہیں۔ وہ ہاؤس جاب سے فارغ ہوکرسویرا ان دنوں لاہور میں اکیڈمی جوائن کرکے سی ایس ایس کی تیاری کررہی ہیں۔

انہوں نے ہفتہ کو پی کے 25 بونیر کی جنرل نشست سے کاغذات جمع کرائے تھے جس کے بعد بھارتی ذرائع ابلاغ میں بھی ان کا چرچا ہو رہا ہے۔

اوم پرکاش نے آج نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ڈاکٹر سویرا پرکاش نے پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں کے کہنے پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں اور انہیں پارٹی کی طرف سے ٹکٹ ضرور ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریزرو نشستوں کے لیے بھی ڈاکٹر سویرا کا نام شامل کیا گیا ہے۔

اوم پرکاش کا کہنا تھا تھا کہ بونیر میں پہلی مرتبہ ایک خاتون اور پھر اقلیت سے تعلق رکھنے والی خاتون مقابلے پر آئی ہے اور ایسے میں جیتنا مشکل ہوسکتا ہے لیکن بونیر کے لوگ ہمارے ساتھ ہیں ، وہ اقلیتیوں اور خواتین کے لیے بہت احترام رکھتے ہیں، ان کا رسپانس بھی بہت مثبت آیا، مجھے یقین ہے کہ کامیابی ملے گی۔

اپنی بیٹی کی انتخابی مہم کے حوالے سے اوم پرکاش کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر سویرا بدھ کو بینطیر بھٹو کی برسی میں شرکت کرکے انتخابی مہم شروع کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں