0

کیا بے بی بومرز کی وراثت وارثان کا تحفظ کرنے کیلئے ناکافی ہوگی؟

ماہرین کی رپوٹ کے مطابق امریکی بے بی بومرز (1946 سے 1964 کے درمیان پیدا ہونے والے بچوں کی توداد بہت زیادہ تھی.ان بچوں کو بے بی بومرز کہا جاتا ہے) اپنے ورثاءکیلئے50ٹریلین ڈالر سے زائدکے اثاثے چھوڑیں گے، لیکن اپنی صحت کی دیکھ بھال پرزیادہ اخراجات کی وجہ سے نیکسٹ جنریشنز کو معاشی تحفظ دینے میں ناکام رہیں گے۔
ویلتھ مینجمنٹ فرم سیرولی ایسوسی ایٹس کے مطابق بے بی بومرز کی طرف سے جنریشن ایکس،ملینئلز اور جنریشن زی کے ورثاءکے علاوہ خیراتی اداروں کو تقریباً 53ٹریلین ڈالرز منتقل کیے جائیں گے۔ اس میں ان کی زندگی میں دیے گئے تحائف اور وراثت دونوں شامل ہیں۔ سیرولی کے اندازے کے مطابق اس رقم کا 68فیصد حصہ 2020سے 2045کے درمیان ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق صحت پر زیادہ اخراجات آنے کے باعث بے بی بومرز زیادہ وراثت چھوڑنے میں ناکام رہیں گے۔اس کی بڑی وجہ امریکہ میں بوڑھے لوگوں کیلئے علاج کی سہولیات کا بے حد مہنگا ہونا ہے۔بیورو آف لیبر کے اعدادوشمار کے مطابق 2022میں 65سال کی عمر کے افراد نے صحت کی دیکھ بھال کیلئے سالانہ اوسطاً 520ڈالر خرچ کیے، جبکہ 65سال سے زائد عمر کے افراد نے سالانہ اوسطاً 7540ڈالر خرچ کیے۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق جتنے اخراجات ایک انسان کی پوری زندگی میں آتے ہیں اس کا 60فیصد 65 سال کی عمر کے بعد خرچ ہوتا ہے۔ یہ بات بھی قابل تشویش ہے کہ امریکہ میں نوجوان نسل کے مقابلے بے بی بومرز زیادہ ہیں لہذا انھیں اپنے آباﺅ اجداد یا ان کے رشتہ داروں کی دیکھ بھال کرنی ہوگی لیکن یہ مدد بعد کی جنریشنز کو خاصی مہنگی پڑنے والی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں