0

تاحیات نااہلی کیس؛ ہم بنیادی آئینی حقوق اور تاریخ کو نظرانداز کررہے ہیں، چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تاحیات نااہلی کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ ہم بنیادی آئینی حقوق اور تاریخ کو نظرانداز کررہے ہیں۔

سیاستدانوں کی تاحیات نااہلی کی مدت کے تعین سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 7 رکنی لارجر بینچ سماعت کررہا ہے، جس میں جسٹس منصورعلی شاہ،جسٹس یحییٰ آفریدی،جسٹس امین الدین خان ، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔ عدالتی کارروائی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر براہ راست دکھائی جارہی ہے۔

سماعت کے آغاز پر جہانگیر ترین کے وکیل مخدوم علی خان نے دلائل شروع کیے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نااہلی سے متعلق انفرادی مقدمات اگلے ہفتے سنیں گے۔ اس وقت قانونی اور آئینی معاملے کو دیکھ رہے ہیں۔
وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے بنیادی معاملہ اسی عدالت کا سمیع اللہ بلوچ کیس کا ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی سمیع اللہ بلوچ کیس میں سوال اٹھایا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ آپ کے مطابق نااہلی کا ڈیکلریشن سول کورٹ سے آئے گا؟، جس پر وکیل نے بتایا کہ جی، ڈیکلیریشن سول کورٹ سے آئے گا۔ سول کورٹ فیصلے پر کسی کا کوئی بنیادی آئینی حق تاعمر ختم نہیں ہوتا۔ کامن لا سے ایسی کوئی مثال مجھے نہیں ملی۔ کسی کا یوٹیلٹی بل بقایا ہو، جب ادا ہو جائے تو وہ اہل ہوجاتا ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق کیا انتخابات کے بعد ہوگا یا پہلے ہوگا؟۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں خود کو آئین کی شق تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ پورے آئین کو دیکھنا ہوگا۔ ہم بنیادی آئینی حقوق، آئینی تاریخ کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ شفاف ٹرائل،بنیادی تعلیم بھی آئین کا حصہ ہے۔ ایوب خان سے دست اندازی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ہوا کیا تھا۔ میں پاکستان کی تاریخ کا نظر انداز نہیں کر سکتا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملک کو تباہ کرنا سزا 5 سال ہے۔ کاغذات نامزدگی میں معمولی غلطی پر سزا تاحیات ہے۔ ہم ابھی تک آئینی شق کی لینگویج پر پھنسے ہوئے ہیں۔

جہانگیر ترین کے وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ 1985میں آرٹیکل 62 ون ایف کو آئین کا حصہ بنایا گیا۔ آرٹیکل 62 اور 63 کو اب اکھٹا کیا جاتا ہے۔آرٹیکل 62 کو آرٹیکل 63 کے بغیر نہیں دیکھا جاسکتا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا سول کورٹ نااہلی کا ڈیکلیریشن دے سکتا ہے؟، جس پر وکیل نے بتایا کہ سول کورٹ ایسا ڈیکلیریشن نہیں دے سکتا۔ کون سا سول کورٹ ہے جو کسی کو واجبات باقی ہونے پر کہہ دے یہ صادق و امین نہیں ۔

جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ کیا قانون سازی سے ڈیکلیریشن پر نااہلی کی مدت متعین کی جا سکتی ہے؟، جس پر وکیل نے کہا کہ آئین میں کورٹ آف لا کی بات ہے جس میں سول اور کریمنل دونوں عدالتیں آتی ہیں۔ کل جسٹس مسرت ہلالی نے پوچھا آرٹیکل 62اور63 الگ الگ رکھنے کی وجہ کیا تھی۔ اہلیت اور نااہلی کو الگ الگ رکھا گیا ہے۔

چیف جسٹس ے کہا کہ کیا ہم جو چاہے وہ کر سکتے ہیں۔ کیا آپ مانتے ہیں دنیا میں سب سے اچھے اراکین پارلیمنٹ پاکستان کے ہیں۔ ایسا نہیں ہے میں کسی کی عزت نہیں دے رہا۔ کیا دنیا میں کہیں اراکین اسمبلی کے لیے ایسی اہلیت ہے۔ وکیل نے کہا کہ دنیا میں کہیں ایسی اہلیت کا معیار نہیں ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد آئین کو دیکھ رہا ہوں۔ الفاظ سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن میرا یہ اختیار نہیں ہے کہ آئین کے ہر لفظ کو نظر انداز کروں۔ آئین کا ہر لفظ اہم ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے فیصلے کے ذریعے تشریح کی۔ آئین نے نہیں لکھا نااہلی کا معیار کیا ہوگا۔ یہ تو عدالتی فیصلے کے ذریعے طے کیا گیا مدت کیا ہوگی۔ ایک شخص قتل کرتا ہے، لواحقین کو دیت دیتا ہے تو کاغذات نامزدگی جمع کرا سکتا ہے۔

وکیل نے کہا کہ الیکشن ٹریبونل پورے الیکشن کو بھی کالعدم قرار دے سکتا ہے۔ الیکشن میں کرپٹ پریکٹس کی سزا 2 سال ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی فراڈ کرتا ہے تو اس کا مخالف ایف آئی آر درج کراتا ہے۔ کیا سزا تاحیات ہوتی ہے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ جب آئین نے خود طے کیا نااہلی اتنی ہے تو ٹھیک ہے۔ نیب قانون میں بھی سزا 10 سال کرائی گئی۔ آئین وکلا کے لیے نہیں عوام پاکستان کے لیے ہے۔ آئین کو آسان کریں۔ آئین کو اتنا مشکل نہ بنائیں کہ لوگوں کا اعتماد ہی کھو دیں۔ فلسفیانہ باتوں کے بجائے آسان بات کریں۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لوگوں کو طے کرنے دیں کون سچا ہے کون ایماندار ہے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ایک مخصوص کیس کے باعث حلقے کے لوگ اپنے نمائندے سے محروم کیوں ہوں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ مدت 5 سال طے کرنے کا معاملہ عدالت آیا، کیا ہم 232 تین کو ریڈ ڈاؤن کرسکتے ہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ یہ بہت مشکوک نظریہ ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا عدالت یہ کہہ سکتی ہے کہ پارلیمنٹ 232 تین کو اس طرح طے کرے کہ سول کورٹ سے ڈگری ہوئی تو سزا 5 سال ہوگی۔

وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ 185 کے تحت اپیلیں سن رہا ہے۔ 232 تین کو اگلی پارلیمنٹ ختم کر سکتی ہے۔ عدالت نے طے کرنا ہے کہ سمیع اللہ بلوچ کیس درست تھا یا نہیں۔ اگر سمیع اللہ بلوچ کیس کالعدم قرار دیا گیا تو قانون کا اطلاق ہوگا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہم سیکشن 232 دو کو کیسے کالعدم قرار دیں وہ تو ہمارے سامنے ہے ہی نہیں، جس پر وکیل نے کہا کہ تاحیات نا اہلی کا اصول عدالتی فیصلے سے طے ہوا۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ میرے خیال میں فیصلے میں تاحیات کا ذکر نہیں ہے، جس پر وکیل نے کہا کہ فیصلے میں کہا گیا جب تک ڈیکلریشن رہے گا نااہلی رہے گی۔

جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ اگر عدالت ڈکلیریشن کی ہی تشریح کر دے تو کیا مسئلہ حل ہوجائے گا؟، جس پر وکیل نے کہا کہ ماضی کا حصہ بنے ہوئے ڈیکلریشن کا عدالت دوبارہ کیسے جائزہ لے سکتی ہے؟۔ جو مقدمات قانونی چارہ جوئی کے بعد حتمی ہوچکے انہیں دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ ڈیکلریشن حتمی ہوچکا ہے تو الیکشن پر اس کے اثرات کیا ہوں گے؟۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں