0

کم جونگ اُن اپنی 10 سالہ بیٹی کو جانشین مقرر کر دیں گے؛ جنوبی کوریا کا دعویٰ

سیئول: جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ اُن اپنی 10 سالہ بیٹی ’کِم جو اے‘ کو ممکنہ طور پر اپنا جانشین مقرر کردیں گے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ اُن کی صاحبزادی پہلی بار 2022 کے آخر میں عوام کے سامنے نمودار ہوئی تھیں اور اس سے قبل انھیں کسی نے نہیں دیکھا تھا۔

اپنی پہلی عوامی آمد کے بعد سے وہ اعلیٰ میزائل تجربات اور فوجی پریڈ میں کم جونگ اُن کے ساتھ نظر آتی رہی ہیں اور انھیں اہم ترین شخص کا پروٹوکول بھی دیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل اچانک 2020 میں شمالی کوریا کے حکمراں کے ساتھ ان کی بہن کِم یو جونگ کو دیکھا جا رہا تھا وہ ہر ملکی، فوجی اور میزائل تجربات کی تقریبات میں کم جونگ اُن کے ساتھ دیکھی جاتی رہی ہیں۔

اُس وقت بھی جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ شمالی کوریا کے ریاستی امور عملاً کِم یو جونگ چلا رہی ہیں کیوں کہ کم جونگ اُن شدید علیل ہیں اور وہ ممکنہ طور پر اپنی بہن کو اپنا جانشین مقرر کریں گے۔

تاہم جنوبی کوریا کی ایجنسی کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا اور 2022 کے آخر سے کم جونگ اُن کی بہن کِم یو جونگ منظر عام سے غائب ہوتی گئیں اور ان کی جگہ کم جونگ اُن کی بیٹی نظر آنے لگیں۔

اپنی حالیہ رپورٹ میں جنوبی کوریا کی ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا کے ممکنہ جانشین کے تمام امکانات پر غور، تحقیق اور اطلاعات کے حصول کے نتیجے میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ جانشین کی ممکنہ مضبوط ترین امیدوار کم جونگ اُن کی بیٹی ہوں گی۔

جس کی بنیادی وجوہات یہ ہیں کہ کم جونگ اُن کی بیٹی کو اب عوامی سطح پر محبوب بیٹی کے بجائے محترم بیٹی کے لقب سے پکارا جا رہا ہے اور لفظ محترم شمالی کوریا میں کسی اعلیٰ اور اہم ترین حکومتی شخص کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی یہ دعویٰ بھی کیا کہ عوامی سروے میں بھی جانشین کی مضبوط ترین امیدوار کے طور پر کم جونگ اُن کی بیٹی کم جو اے ہی ابھر کر سامنے آئی ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ابھی صرف 10 سال کی اور اپنے باپ کی سب سے بڑی اولاد ہیں۔

محترم بیٹی کے بعد کم جونگ اے کا اگلا لقب محترم کامریڈ ہوگا جو ان کی جانیشی پر مہر ثبت کردے گا تاہم یہ لقب انھیں کب حاصل ہوتا ہے اس کا انتظار کرنا ہوگا۔

اگر کم جونگ اُن اپنی بیٹی کو جانشین مقرر کردیتے ہیں تو یہ چوتھی نسل ہوگی جو شمالی کوریا پر حکمرانی کرے گی جہاں کے عوام کو شروع سے یہی سکھایا گیا ہے کہ کمز خاندان کا تعلق ایک مقدس خون کی لکیر سے ہے یعنی صرف یہی خاندان ملک کی قیادت کرنے کا اہل ہے۔

یاد رہے کہ کمز خاندان اپنے بارے میں زیادہ تر معلومات نہایت خفیہ رکھتے ہیں۔ کم جونگ اُن کی شادی کو بھی کافی عرصے تک خفیہ رکھا گیا اور بچوں کی پیدائش کی بھی اطلاع عام نہیں دی جاتی۔

پہلی بار کم جونگ اُن کی بیٹی کم جو اے کے وجود کا ذکر 2013 میں ہوا تھا جب ریٹائرڈ امریکی باسکٹ بال اسٹار ڈینس روڈمین نے شمالی کوریا کا ایک متنازعہ دورہ کیا تھا اور حکمراں کی نومولود بیٹی کو دیکھنے کا تذکرہ کیا تھا۔

اسی تذکرے کے باعث یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کم جو اے اپنے والد کی سب سے بڑی اولاد اور دس سال کی ہیں۔

یاد رہے کہ 41 سالہ کم جونگ اُن نے اپنے والد کے انتقال پر محض 28 سال کی عمر میں ملک کا اقتدار سنبھال لیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں