0

پاکستان میں نئے کورونا ویریئنٹ کے دو مشتبہ کیس سامنے آگئے

محکمہ صحت سندھ نے تصدیق کردی، کراچی پہنچنے والے فضائی مسافروں کے نمونے لیب کو ارسال
سندھ میں نئے کورونا ویریئنٹ کے دو مشتبہ کیس سامنے آئے ہیں۔ محکمہ صحت نے تصدیق کردی۔

کراچی پہنچنے والے دو فضائی مسافروں کے چیک اپ سے ان کے نئے کورونا ویریئنٹ میں مبتلا ہونے کا پتا چلا۔

ابھی یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ یہ دونوں کس ویریئنٹ کا شکار ہوئے ہیں۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ دونوں نئے کیس نئے کورونا ویریئنٹ JN.1 کے ہوسکتے ہیں جو دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس حوالے سے دنیا بھر میں حکومتیں شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔

سندھ میں نئے کورونا ویریئنٹ کے دونوں کیس جمعہ نگراں وفاقی صحت ڈاکٹر ندیم کی طرف سے سینیٹ میں دیے گئے اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے کہ ملک میں نئے کورونا ویریئنٹ کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ جن دو افراد میں نئے کورونا ویریئنٹ کا پتا چلا ہے ان کی عمریں 50 اور 60 سال کے درمیان ہیں اور وہ بالترتیب بنکاک اور جدہ سے جمعرات اور جمعہ کو آئے تھے۔

کراچی پہنچنے والے دونوں فضائی مسافروں میں فلو کی علامات پائی گئیں اور ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ وہ کورونا وائرس کا شکار ہیں۔ دونوں کے نمونے حتمی تجزیے کے لیے مقامی یونیورسٹی کی لیب کو بھجوادیے گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ کورونا کا نیا ویریئنٹ انتہائی متعدی ہے۔ مریضوں کو قرنطینہ کیا جانا چاہیے تاکہ دوسرے افراد اس سے محفوظ رہیں۔

دونوں مسافروں کو قرنطینہ کی ہدایت کرتے ہوئے ان کے آبائی شہروں ڈیرہ غازی خان اور سانگھڑ جانے دیا گیا۔

حکام نے یہ بھی بتایا کہ ایک پرواز کے صرف 2 فیصد مسافروں کی ریپڈ اینٹیجن ٹیسٹ کے ذریعے اسکریننگ کی گئی۔ سندھ کے محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ قرنطینہ کی سہولتوں کے حوالے سے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے کوئی ہدایات جاری نہیں کیں۔

جے این ون بہت تیزی سے پھیلنے والا کورونا ویریئنٹ ہے اور اس وقت امریکہ میں کورونا کے 60 فیصد کیس اسی کے ہیں۔ وہاں تین ہفتوں کے دوران ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھی ہے۔

دی انفیکشیس ڈزیزز سوسائٹی آف پاکستان کے صدر ڈاکٹر رفیق خانانی کہتے ہیں کہ JN.1 نے امریکہ، یورپ، افریقا، چین، بھارت، کینیڈا اور ویتنام سمیت 50 سے زائد ملکوں کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ عالمی ادارہ صحت بھی اس حوالے سے الرٹ جاری کرچکا ہے۔

ڈاکٹر رفیق خانانی کا یہ بھی کہنا ہے کہ فلو کی علامات کے علاوہ یہ بیماری شدید اضطراب اور نیند کی کمی سے بھی تعلق رکھتا ہے۔

ڈاکٹر خانانی کہتے ہیں کورونا کا نیا ویریئنٹ زیادہ شدید نہیں تاہم معمر افراد زیادہ ہدف پذیر ہیں کیونکہ ان میں قوتِ مدافعت خاصٰ کم ہوتی ہے۔ اس حوالے سے حکومت کو خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں