0

کینیڈا اور امریکا کے بعد بھارت کے مالدیپ سے بھی تعلقات میں سردمہری

مالدیپ کے نو منتخب صدر محمد معیزو کے مودی سرکار کی مداخلت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے سے بھارت کے مالدیپ کے وسائل پر قابض ہونے کا بھارتی خواب چکنا چور ہوگیا۔

مالدیپ کے صدر محمد معیزو نے عہدہ سنبھالنے کے بعد برسوں پرانی روایت توڑتے ہوئے اپنے پہلے سرکاری دورے کے لیے بھارت کے بجائے ترکیہ کا انتخاب کیا اور تمام ہندوستانی فوجیوں کو بھارت واپس جانے کا حکم دیدیا۔

نو منتخب صدر محمد معیزو نے مالدیپ میں بھارتی فوج کی موجودگی کو ملکی استحکام کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی منظوری کے بغیر غیر ملکی فوجیوں کی مالدیپ میں تعیناتی آئین کے منافی اور بین الاقوامی قدروں کے خلاف ہے۔

صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد محمد معیزو نے بھارت سے تعلقات کو پس پشت ڈالتے ہوئے مالدیپ کی خارجہ پالیسی کو متنوع اور ازسرنو ترتیب دینے کا اعلان بھی کردیا۔

محمد معیزو نے بھارت کو مالدیپ کے اندورنی معاملات میں مداخلت سے واضح طور پر متنبہ کیا جب کہ مالدیپ کے وزرا نے بھی مودی سرکار کو سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مالدیپ کی جانب سے بھارت کو یہ کھلی بغاوت اور براہ راست نشانہ بنانے کا پیغام ہے۔

یاد رہے کہ خالصتان تحریک کے سکھ رہنماؤں کے قتل کی سازش پر ملکی مداخلت کے تناظر میں بھارت کے پہلے ہی کینیڈا اور امریکا کے ساتھ تعلقات تناؤ کا شکار ہیں جب کہ لداخ کے معاملے میں چین بھی بھارت سے ناراض ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں