0

اسرائیل سے تعلقات استوار کرنا اب بھی سعودی عرب کی ترجیح

فلسطینی ریاست کا قیام بھی لازم، اسرائیلی اقدامات سے صرفِ نظر ممکن نہیں، سعودی سفیر کا انٹریو
سعودی عرب نے کہا ہے کہ غزہ میں لڑائی ختم ہونے پر وہ اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کو ترجیح دے گا۔

برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں شہزاد خالد بن بندر نے کہا کہ اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کی راہ اسی وقت ہموار ہوسکتی ہے جب فلسطینی ریاست کا وجود بھی یقینی ہو۔

شہزادہ خالد نے بتایا کہ 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملوں سے قبل سعودی عرب، امریکا کی وساطت سے، اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کے معاہدے کے بہت نزدیک پہنچ چکا تھا۔

سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ غزہ میں بڑے پیمانے پر شہادتوں کے باوجود سعودی قیادت اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے پر یقین رکھتی تاہم ایسا فلسطینیوں کی زندگی کی قیمت پر نہیں ہوگا۔

شہزاد خالد بن بندر نے کہا کہ غزہ کے معاملے میں عالمی برادری ناکام ہوگئی ہے، بہت بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور تباہی کے باوجود اس کی خاموشی افسوس ناک ہے۔ برطانیہ کو اعتدال پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیل کو بھی ویسے ہی ٹریٹ کرنا چاہیے جیسے وہ سب کو ٹریٹ کرتا ہے۔ اسرائیل کے اعمال سے صرفِ نظر کے نتیجے میں امن کو خطرات لاحق رہیں گے۔

سعودی عرب کو عرب اور اسلامی دنیا کے غیر اعلانیہ قائد کی حیثیت حاصل ہے۔ اس نے اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اگر سعودی قیادت اسرائیل کو تسلیم کرتی ہے تو اِسے صہیونی ریاست کی ایک بڑی کامیابی تصور کیا جائے گا۔

ستمبر 2023 میں سعودی عرب کے پسِ پردہ حقیقی حکمران ولی عہد محمد بن سلمان نے ایک امریکی ٹی وی چینل سے انٹرویو میں کہا تھا کہ ہم ہر روز اسرائیل سے دوستی اور مفاہمت کے ایک جامع معاہدے کے نزدیک تر ہوتے جارہے ہیں۔

سعودی ولی عہد نے کہا تھا کہ فلسطین کا مسئلہ بہت اہم ہے اور اسرائیل سے دوستی کے کسی معاہدے کے نتیجے میں فلسطینیوں کی مشکلات دور ہونی چاہئیں تاہم انہوں نے فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے کچھ نہیں کہا تھا۔

فلسطینی قائدین کہتے ہیں کہ وہ ایسی کسی بھی معاہدے کو مسترد کردیں گے جس میں فلسطینی ریاست کا قیام یقینی نہ بنایا گیا ہو۔ ماہِ رواں کے ابتدائی دنوں میں یہ اطلاعات بھی آئی تھیں کہ فلسطینی قائدین امریکا کی وساطت سے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان کسی معاہدے کی حمایت کے لیے نجی طور پر زیادہ فنڈز اور زیادہ فلسطینی رقبے پر کنٹرول کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے، جو مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں، سعودی ولی عہد سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ اسرائیل سے تعلقات استوار کرنے کا معاملہ ہم نے پھر اٹھایا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے کہا کہ غزہ میں لڑائی ختم ہونی چاہیے اور سعودی اسرائیلی معاہدے کے نتیجے میں فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہونی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں