0

8 فروری کو الیکشن کرانے کیلئے پاکستان میں ہرکوئی پرعزم ہے، نگراں وزیراعظم

نگراں حکومت کی کارکردگی پر وائٹ پیپر شائع کریں گے، ڈیووس میں امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو
نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 8 فروری کو انتخابات کرانا آئینی ضرورت ہے اور اس تاریخ کو انتخابات کرانے کیلئے پاکستان میں ہر کوئی پرعزم ہے۔

ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پرسی این بی سی کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کے پاس اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا انتخاب ہوگا اور وہ اگلے پانچ سال کے لئے حکومت منتخب کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عام انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں، انتخاباتی کرانا آئینی ذمہ داری ہے اورنگراں حکومت خوش اسلوبی سے آئینی ذمہ داری انجام دے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کوانتخابات میں ووٹ ڈالنے کا موقع فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ الیکشن کمیشن آئندہ انتخابات کیلئے آئینی تقاضے پورے کرچکا ہے۔ عام انتخابات کےدوران عالمی مبصربھی پاکستان آئیں گے۔

معاشی صورتحال کے بارے میں پوچھے جانے پر وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کے لیے دوسری قسط کی منظوری دے دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کی ترجیح معاشی بحالی اور ترقی اور دیگر معاشی اشاریوں پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ ہم نگراں حکومت کی چار سے پانچ ماہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر بھی شائع کریں گے۔

نگراں وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے ٹیکس کے نظام میں ایک نیا پروگرام متعارف کرایا ہے۔ ہم نے نجکاری کی مہم چلائی اور وفاقی سطح پر اخراجات میں کمی کی۔ صوبوں کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں تاکہ وہ بھی اپنے اخراجات کو معقول بنا سکیں۔
نگراں وزیراعظم نے دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے علاقائی نقطہ نظر کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں انسداد دہشت گردی کی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک درمیانے درجے کی طاقت ہے اور اس کی اصل صلاحیت اور کردار کو سراہنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کےخلاف پاکستان کا ایک مضبوط مؤقف ہے اور پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کرتاہے۔

ایک سوال کے جواب میں نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ غیرقانونی افغان مہاجرین کی واپسی بہت ضروری تھی، پاکستان گزشتہ 4 دہائیوں سےافغان مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ غیرقانونی غیرملکی پاکستان کی سیکورٹی کیلئے خطرہ ہیں، پاکستان میں جو بھی آئے گاوہ قانونی دستاویزات کے ساتھ داخل ہوگا۔

چین کے ساتھ تعلقات کے بارے میں پوچھے جانے پر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ پاکستان کے بیجنگ کے ساتھ اسٹریٹجک طور پر قریبی تعلقات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ خطے یا کہیں اور کیا ہوتا ہے ، چین کے ساتھ ہمارے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں