0

ووٹ 2024 سے پہلے انڈیا کا نیا کرمنل بل ،پولیس اسٹیٹ بنانے کا خدشہ

ہندوستان کی پارلیمنٹ سے دسمبر میں منظور ہونے والے متنازعہ قانون نے شہری آزادیوں اور نگرانی کے بارے میں خدشات کو جنم دیا ہے۔
پچھلے مہینے کے آخر میں ہندوستان کی پارلیمنٹ نے کرمنل لاء کے نظام اور ٹیلی کام قوانین کی سب سے بڑی تبدیلی میں متنازعہ قانون سازی کے دو سیٹ منظور کیے جن کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے پولیس کے اختیارات میں بہت اضافہ ہو سکتا ہے اور بڑے پیمانے پر نگرانی میں سہولت ہو سکتی ہے۔
قانون سازی کے پہلے سیٹ میں تین فوجداری قوانین شامل ہیں – بھارتیہ نیا سنہتا (BNS)، بھارتی شہری تحفظ سنہتا (BNSS)، اور بھارتیہ ساکشیہ ادھینیم (BSA) 2023 – جو نوآبادیاتی دور کے انڈیا پینل کوڈ، کوڈ آف کریمنل پروسیجر اور انڈین ایویڈینس ایکٹ کی جگہ لے گا۔
ہندوستان کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے زور دے کر کہا کہ نئے بل شہریوں کو “نوآبادیاتی دور کی ذہنیت اور اس کی علامتوں سے آزاد کریں گے۔
ناقدین کا دعویٰ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے ڈی کالونائزیشن کی بات کو ایسے قوانین بنانے کے لیے استعمال کیا ہے جو ان قوانین سے زیادہ سخت ہیں جنہیں وہ تبدیل کر رہے ہیں۔
ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ 2023، کا نیا بل اندھا دھند نگرانی کو ممکن اور رازداری کو ختم کرے گا۔
نئے فوجداری قوانین دسمبر 2024 تک مرحلہ وار نافذ کیے جائیں گے۔ حکومت نے ابھی تک ٹیلی کام ایکٹ کے نفاذ کی اطلاع نہیں دی ہے۔
اس قانون کے تحت پولیس کسٹڈی کی مدت 15 دن سے بڑھا کے 60 دن تک ہو گی.جبکہ کسٹڈی کے دوران ضمانت مشکل عمل ہوتی ہے.
انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ کس طرح تشدد کے زیادہ تر واقعات پولیس کی حراست میں ہوتے ہیں۔ این جی اوز کے ایک پلیٹ فارم، نیشنل کمپین اگینسٹ ٹارچر کی 2020 کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت میں ہر روز اوسطاً پانچ افراد کی حراست میں موت ہو جاتی ہے، جن میں سے کچھ پولیس یا عدالتی حراست میں تشدد کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کچھ جرائم کی تعریف مبہم ہے جس کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے خاص کر بغاوت سے متعلق جرائم کا ، جن کا پہلے ہی سماجی کارکنوں اور صحافیوں کے خلاف استعمال ہوتا ہے.اور ٹیل کام لاء بھی فکر پیدا کر رہا ہے جس سے پرائیوسی کے لیے خطرے کے ساتھ ساتھ سرویلنس کا دائرہ بھی غیر ضروری حد تک بڑھ جائے گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں