0

کینیڈا میں 2 مرتبہ قومی انتخابات میں بھارت کی مداخلت کا انکشاف

کمیشن عبوری رپورٹ 3 مئی کو جاری کرے گا، سکھ لیڈر ہردیپ نجر کے قتل پر بھارت اور کینیڈا میں پہلے ہی ٹھنی ہوئی ہے
کینیڈا نے اپنے وفاقی انتخابات میں بھارت کی مبینہ مداخلت کے حوالے سے تفتیش کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔ اب بھارتی حکومت سےبھی اس سلسلے میں پوچھ گچھ کی جائے گی۔

کینیڈا نے 2019 اور 2021 کے وفاقی انتخابات میں بھارت کی مبینہ مداخلت سے متعلق تفتیش کی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ انکوائری کمیشن کی عبوری رپورٹ 3 مئی کو متوقع ہے۔

واضح رہے کہ کینیڈا میں خالصتان تحری کے لیڈر ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے حوالے سے بھارت اور کینیڈا کے تعلقات کئی ماہ سے کشیدہ ہیں۔ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے 18 ستمبر 2023 کو بھارت پر 18 جون کو سکھ لیڈر کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا۔

اب کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ 2019 اور 2021 کے وفاقی انتخابات میں بھارت کی مداخلت کے حوالے سے بھی تحقیقات کی جارہی ہے۔

گزشتہ برس بلوم برگ ڈاٹ کام نے ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ جسٹن ٹروڈو نے انتخابات سے متعلق چند حساس دستاویزات کے میڈیا میں نمودار ہونے پر کینیڈین انتخابات میں چین کی مبینہ مداخلت کی تحقیقات شروع کروائی تھی۔

دستاویزات میں الزام لگایا گیا تھا کہ چین نے صدر شی جن پنگ کی پالیسیوں سے اظہارِ یکجہتی کرنے والے امیداروں کی حمایت کرکے انتخابی عمل میں مداخلت کی تھی۔

بلوم برگ نے بتایا ہے کہ انکوائری کمیشن نے تصدیق کردی ہے کہ انتخابات میں مداخلت کے سوال پر مودی سرکار سے بھی تفتیش کی جائے گی۔

گلوبل نیوز نے بھی تصدیق کردی ہے کہ کینیڈا کا فیڈرل انکوائری کمیشن اس امر کا جائزہ لے گا کہ بھارت نے 2019 اور 2021 کے وفاقی انتخابات میں مداخلت کی تھی یا نہیں۔ کمیشن نے اس حوالے سے وفاقی حکومت سے متعلقہ دستاویزات بھی طلب کی ہیں۔

کمیشن پیر 29 جنوری سے سماعت شروع کر رہا ہے جس میں سب سے پہلے اس امر کا جائزہ لے گا کہ حساس دستاویزات کا منظر عام پر لایا جانا ملک کے لیے کس حد تک خطرناک ہے۔ کمیشن کی حتمی رپورٹ سالِ رواں کے آخر تک منظرِ عام پر آئے گی۔ بھارت نے 2020 میں ہردیپ سنگھ نجر کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں